Header Ads Widget

Responsive Advertisement

Ticker

6/recent/ticker-posts

There is still time | ابھی بھی وقت ہے

There is still time | ابھی بھی وقت ہے

There is still time | ابھی بھی وقت ہے
Working Women

It's still time, do your due, before it's too late!
See! The main reason the feminists opposed the march was that the main purpose of this march was to liberate Muslim women from Islam, not their grandfather. Even though this March, even though they continued to offer speeches, the participants in the march, which had more men than women, proved what they wanted with their slogans and statements. Which were often confused. {Although confusion is the primary tool of post-modernism}.
These people were inviting the brutal and outdated traditions of modern ignorance {which is more cruel to women than ancient ignorance}.
It is now sitting around and the organizers will now do more social projects rather than disappointment or opposition from the people in these marches so that more and more people become part of the movement.
But now it's our turn, examine yourself and your family, and account for whether women have got all the rights that Islam has given them. Aren't all naked in this bath?
Do women in our society not be persecuted because of ignorant traditions?
Are they not deprived of property?
Are they not allowed to marry them without their will?
Are they not less important than men in religion and world education? Nay, we have given them up to the devoted men. In the case of a daughter-in-law, they are not treated every day? In the case of a wife, their family is not condemned?
A man is not quarrelsome and given to a girl in a forest or a yard.
A woman does not come every day to save honor and honor?
There are hundreds of such atrocities, all mentioned in the palace, through which the women of this society pass.
Depending on outdated traditions and distorted religious interpretations, how many wounds do women suffer daily? Have we ever considered it or raised a voice to prevent it? How long will we make a noise that Islam has given women protection rights, but have we given those rights to women or taken them away? How long will we hide our ignorance at the feet of Islam? Until the end, we will continue to uphold the rights granted to Islam.
If we remain silent, these same feminists will make these oppressed women our own.
If you forbid women from getting education in the Shariah curtains, these people will barely get them out of their homes.
If you forbid women from having a custom wedding, they will provide them with boyfriends.
If you deprive women of basic rights for the sake of honor and tradition, then they will deprive them of Islam.
If you deprive a woman of your rights in the name of a veil, they will make your women an enemy of the veil.
If we do not raise our voice against the oppression of a woman, these people will make this oppressed woman the subject of their robbery.
This means that the revenge for every cruelty and deprivation will be doubled, and then you will not be able to do anything, because this will come according to the law.
So commit, give women rights, raise their voices, and recapture the outdated traditions that we have tied our backs to even after repenting from unbelief.Enter Islam in its entirety. Al-Quran

There is still time | ابھی بھی وقت ہے

ی بھی وقت ہے، اپنا احتساب کرو، اس سے پہلے کہ دیر ہو جائے!                    

دیکھیں! فیمنسٹوں کی طرف سے عورت مارچ کی مخالفت کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ اس مارچ کا اصل مقصد مسلمان خواتین کو اسلام سے آزاد کرانا تھا، نہ کہ ان کی داد رسی۔ اگر چہ اس مارچ کے بہی خواہ، خواہ مخواہ کی تعبیریں پیش کرتے رہیں لیکن مارچ میں نکلے ہوئے شرکاء جس میں عورتوں سے زیادہ مرد تھے، نے اپنے نعروں اور بیانات سے ثابت کیا کہ وہ کیا چاہتے ہیں۔ جس میں اکثر کنفیوزڈ تھے۔ (اگرچہ کنفیوژن ہی مابعد جدیدیت کا بنیادی ہتھیار ہے)۔
یہ لوگ جن جاہلی اور فرسودہ روایات کی ماری ہوئی عورت کو جدید جاہلیت (جو قدیم جاہلیت کے مقابلے میں عورت کے معاملے زیادہ ظالم ہے) کی طرف دعوت دے رہے تھے۔
اب گرد بیٹھ گیا ہے اور منتظمین ان مارچوں میں لوگوں کی عدم دلچسپی یا مخالفت سے مایوس ہونے کے بجائے اب مزید سماجی پراجیکٹ کریں گے تا کہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس تحریک کا حصہ بنے۔
لیکن اب ہماری باری ہے، اپنا اور اپنے خاندان کا جائزہ لیں، اور احتساب کریں، کہ آیا خواتین کو وہ سارے حقوق ملے ہیں جو اسلام نے ان کو دئے ہیں۔ کیا اس حمام میں سارے ننگے نہیں ہیں؟
کیا ہمارے معاشرے میں عورتوں پر جاہلی روایات کی وجہ سے ظلم نہیں ہوتا؟
ان کو جائداد سے محروم نہیں رکھا جاتا؟
کیا ان کو ان کے مرضی کے بغیر کسی ان جانے کو نکاح میں نہیں دیا جاتا؟
کیا ان کو دین اور دنیا کی تعلیم میں مردوں کے مقابلے میں کم اہمیت نہیں دی جاتی؟ بلکہ ہم نے تو ان کو پوار دین مرد کے حوالے کیا ہیں۔ بہو کی صورت میں روز ان کو نہیں کوسا جاتا؟ بیوی کی صورت میں ان کے خاندان کے طعنے نہیں دئے جاتے؟
کیا مرد جھگڑا کرکے کسی بچی کو ونی یا سوارہ میں نہیں دیا جاتا؟
عزت اور ناموس کو بچانے کے خاطر عورت روز بھینٹ نہیں چڑھتی؟
اس طرح کے سینکڑوں ظلم ہیں سب کا ذکر محال ہے، جس سے اس معاشرے کی عورتیں گزرتی ہیں۔
فرسودہ روایات اور بگڑی ہوئی مذہبی تعبیرات کی بنیاد پر عورت کو روز کتنے زخم لگتے ہیں۔ کیا ہم نے اس پر کبھی غور کیا یا اس کے روک تھام کے لئے کبھی آواز اٹھائی۔ کب تک ہم یہ شور مچائیں گے کہ اسلام نے عورت کو تحفظ دیا حقوق دئے لیکن کیا ہم نے وہ حقوق عورتوں تک پہنچائے ہیں یا ان کو غصب کیا ہیں۔ کب تک ہم اپنی جاہلیت کو اسلام کے دامن میں چھپائیں گے۔ آخرکب تک ہم اسلام کے دئے گئے حقوق کا رٹ لگاتے رہیں گے۔
اگر ہم چپ رہیں گے تو یہی فیمنسٹ ان مظلوم خواتین کو اپنا ہم نوا بنائیں گے۔
اگر تم شرعی پردے میں خواتین کو تعلیم کے حصول سے محروم رکھیں گے تو یہ لوگ برہنہ کرکے ان کو اپنی گھروں سے نکالیں گے۔
اگر تم خواتین کو اپنی مرضی کی شادی سے منع کریں گے تو یہ لوگ ان کو بوائے فرینڈ مہیا کریں گے۔
اگر تم عزت اور روایات کی خاطر عورتوں کو بنیادی حقوق سے محروم رکھیں گے تو یہ لوگ ان کو اسلام سے بیزار کریں گے۔
اگر پردے کے نام پر تم نے عورت کو اپنے حقوق سے محروم کیا تو یہ لوگ تمہاری عورتوں کو پردے کا ہی دشمن بنائیں گے۔
اگر کسی عورت پر ظلم کے خلاف ہم آواز نہیں اٹھائیں گے تو یہ لوگ اس مظلوم عورت اپنے ڈاکیو مینٹری کا موضوع بنائیں گے۔
مطلب ہر ظلم اور محرومی کا بدلہ کئی چند دگنا ہوکر پلٹے گا اور تب تم کچھ نہیں کر پاوگے، کیوں کہ یہ بدلہ قانون کے سہارے آئے گا۔
لہذا عزم کریں، عورتوں کے حقوق دیں ان کے لئے آواز اٹھائیں اور ان فرسودہ روایات کو دقن کر دیں جو کفر سے توبہ کرنے کے بعد بھی ہم نے اپنے پلوں باندھیں ہوئے ہیں۔
اسلام میں پورے کے پورے داخل ہوجاو۔ القرآن

Post a Comment

0 Comments